تہران 31دسمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) ایران کے وسطی ضلع لورستان میں دورود شہر میں حکومت کے خلاف ہونیوالے ایک مظاہرے کے دوران پولیس نے نہتیمظاہرین پر گولیاں برسا دیں جس کے نتیجے میں کم سے کم چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ معتبر ذرائع کے مطابق یہ واقعہ درود شہر میں رات کے وقت پیش آیا جب سیکڑوں افراد حکومت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔دوسری جانب ایران کے طول وعرض میں حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق درود میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت محمد چوباک، محسن، یراشی، حسین رشنو اور حمزہ لشنی نے ناموں سے کی گئی ہے۔ایک شہری کو براہ راست سینے میں گولی لگی ہے۔ادھر عرب اکثریتی ایرانی شہر الاھواز میں پولیس کی فائرنگ سے متعدد شہری زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔ ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔ اھواز میں تشدد کا واقعہ عبدالحمید الخزعلی بازار میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران پیش آیا۔ مجوس نواز مقرب ویب سائیٹ ’بیک ایران‘ اور سوشل میڈیا پر پوسٹ احتجاج کی فوٹیج میں مظاہرین کو ’خامنہ ای مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے سنا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ درود شہر میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ نیم سرکاری ملیشیا پسیج فورس کے اہلکارں کی جانب سے کی گئی۔مظاہرین کے قتل کے بعد مظاہرین نے ایک مقامی حکومتی دفتر کو آگ لگا دی۔ ایرانی پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بہیمانہ استعمال کیباوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ شب تہران، اصفہان، نجف آباد، یاسوج، الاھواز، الخلیفہ، ارومیہ، بندر عباس، جوھر دشت، مشہد، زنجان، اراک، جرجان اور کئی دوسرے شہروں اور دیہات میں حکومت کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔